Home اف ہائے یہ دنیا
اف ہائے یہ دنیا
اُ ف ہائے یہ دنیا قسمیں اُٹھاکے قسمیں کیوں نہ نبھاتی ہے دنیا دلبر دکھا کے دلبر ،کیوں نہ دکھاتی ہے دنیا ہائےہائے یہ کس کس طرح سےستاتی ہے دنیا کیوں کر عدو کے صحن میں اکثر نچاتی ہے دنیا جب سے آیا ہے جہاں میں کووڈ انیس مجھ کو تم سے ،تم کو مجھ سے کیوں ڈراتی ہے دنیا جنت کی ہوس میں جہنم کے ڈرسے اے یاروں رات دن کیوں ہم سے عبارت کرواتی ہے دنیا ہائے یہ زندگی کیا کیا گل کھلاتی ہے دنیا ناخدا کو کیوں کھبی خدا منواتی ہے دنیا نیکی کے بدلے یہ برے اعمال کیوں کرواتی ہے دنیا کیا سےکیا کرواتی و چُھپواتی ہے دنیا وعدے وفا کراکے وعدے تُڑواتی ہے دنیا آنکھوں سے جھوٹے آنسوں کیوں رولاتی ہے دنیا کب مٹتے ہیں غم اُن کو یاد کرنے سے اےہمدم اشکوں کی بارش ہم سےکیوںکرواتی ہے دنیا مر کے جینے کی یاس نہ جائے تو کرے گے کیا قبرپرغیروں سے پتھر کیوں لگواتی ہے دنیا اپنی بھی منزل کی راہیں کھلیں گی ایک دن رہبر بنےسے پہلے ،کیوں تھکاتی ہے دنیا انھیں میری الفت کی کوئی فکر نہیں اے راز پھر ہم کو ہم سے کیوں اس کوچراتی ہے دنیا جب تک چاند سورج وتارے رہے گےاپنےہمدم ہمیں بھی جینے مرنے کی آس دلائی گی ہے دنیا کب رک جاتے ہیں آنسوں بہہ جانے سے یاروں ہائے کس کس در پر منت کی بھیگ منگواتی ہے دینا مالک وبندہ یہ قصہ کیا ہے ازل سے کوئی حاکم کوئی محکوم کیوں بناتی ہے دنیا مل جائے اپنے اپنوں سے یہ دعاہے مالک سے پھر کیوں اکثر اپنے اپنوں سے بچھڑواتی ہے دنیا ہے کیا یہ دنیا میں سمجھ نہ سکااے دوست پھر یہ کیوں اپنا فریفتہ بناتی ہے دنیا کب راز راز رہا مرے راز دار کے یہاں اپنی بات مجھے غیروں سے سنواتی ہے دنیا آنکھیں تھگ گئی ہے دیدار یا ر کو کب سے اوروں میں مجھے ان کارخ کیوں دکھاتی ہے دنیا کب اِس شمع نے کی اس پروانےکی قدر غیروں کی محفل میں اس کی رسوا کراتی ہے دنیا نہ ملنےکا غم مجھے، نہ بچھڑنےکا ملال ہے پھر رقیبوں سےدعا کیوں کرواتی ہے دنیا اوپر سے اچھا بننے کی تمنا کرتے ہیں سبھی یہاں دل میں آگ کیوںاپنوں کے لئےبھڑکاتی ہے دنیا کھبی کھونے،تو کھبی پانےکی جستجو میں اے زندگی تو کیا کیا جھوٹے خواب تو ہم کو دکھاتی ہے دنیا کبھی کسی کو ایک آن میں ملتی نہ ساری خوشیاں کھبی میٹھی چبن توکھبی میٹھی کسک دیتی ہے دنیا تو خاکی ہے تجھے خاک میں ملنا ہے اک دن اس حقیقت کا کیوں انکار کرواتی ہے دنیا مجھے تجھے سمجھنے میں شائد زمانہ لگے گا کیا پتہ یہ سا نسیں کب تک رکواگی ہے دنیا میرے آنگن کی ہوا تجھےکیوں نہ راس آئی تجھے پھر غیرمجھےترا ہمنوا کیوں گنواتی ہے دنیا ظلم کی تلوار بھی ٹوٹ جائےگی اک دن پھر قاتل ، مقتول کیوں بناتی ہے دنیا کیوں اپنوں سے اپنے روٹھتےہیں اکثر صدیاں کیوں اپنوں میں منوانے میں لگاتی ہے دنیا جنھہیں جس سے الفت ہو مل کر نہ بچھڑجائے کیوں ہم سےیہ دعائیں کرواتی ہے دنیا انھیں کیوں میر ی سادگی پسند نہ آئی غم نہ کر پھر ان کی یاد کیوں خون کے آنسو ں رولاتی ہے دنیا میں وقت حاضر پر نہ جاگ سکا کھبی بھی یہ دوش کیوں میرےکندوھوں پر ڈھاتی ہے دنیا جو اپنے تھے میرے وہیں دور رہتے ہیں مجھ سے خدایا اُ ن کی یاد مجھےکیوں اکثر رولاتی ہے دنیا برسات کے موسم میں کیوں نہ میں بھیک سکا مکمل دل میں یہ شدت کی آگ کیوں لگاتی ہے دنیا اکثر منزل پر کیوں رک جاتےہیں شہسوار کیوں اکثر غلط راہ کی تعین کرواتی ہے دینا کشمکش اگر نہ ہوتی دنیا میں تو کیا کیسا ہوتا آگے بڑھنےکی ضد ہم میں نہ رکھواتی ہے دنیا یہ دنیا فانی ہے فنا ہوجائے گی ایک دن چاہت اس میں رہنےکی کیوں جگاتی ہے دنیا جب اُ ن کو مجھ سے ملنےکی کوئی آش باقی نہیں پھر دل میں ان سے ملنےکی تمنا کیوں اگساتی ہے دنیا ماتم کے الم لہراتے یہاں کیوں ازل سے کیوں ایک دوجے سے کیوں لڑاتی ہے دنیا کرم کی بارش ہو کھبی ادھر بھی اے زمانہ کیاکیا رنگ و روپ اکثردکھاتی ہے دنیا طوفانوں میں بجھ جاتے ہیں شمع اکثر کیوں کیوں آندھیوں میں شمع جلواتی ہے دنیا تاب کر بیتابؔ سنبھل کر قدم رکھ اپنا کیوں غیروں سےسہارہ دلواتی ہے دنیا جب خلقنکم من نفس واحد کاہے یہ اعلان تیرا تویہ رام ورحیم کے جھگڑے میں کیوں پڑ تی ہے دنیا اللہ ورسول قرآن و حدیث جب مسلم ہے ایک نام تو پھرا لف، ب،اور 'دال،میں کیوں بٹ گی ہے دنیا یہ اُن کی فطرت ہے مجھ پر غموں کی برسات کر دینا جب آمنت باللہ و خیرہ و شرہ پہ ہے یہ ایمان ترا تو جینے ومرنےکی باتو ں سے کیوں گھبراتی ہے دنیا نہ میں بہک سکا نہ میں بھٹک سکا کھبی ان کی باتوں سے ہائے اللہ کیا سے کن سے کیا کیا باتیں سنواتی ہے دنیا یہ فطرت ہے تیری مجھ پر غموں کی برسات کر دینا یہ خوش نصیبی دیکھ ہر یاس مرے ہی دل میں گھر بناتی ہے دنیا یہ دنیا کتنی ظالم پروانے کے جلنے پر بھی ہے اسے شکائت تو راتوں کو کیوں اپنے آشیانوں میں شمع جلاتی ہے دنیا تو پھر الف ، بے ،اور دال پرکیوں بٹ گئی ہے دنیا خوشی کے واسطے غموں کی سیج بھی چاہیے کھبی یہان تو پھر درد کی ستم زدہ ہواؤں سے کیوںلرزتی ہے دنیا وہ چلے ہم رکے، ہم رکے تو وہ چلے کیوں کر دیکھوں اس راہ کے کیسے راہ گذار بناتی ہے دنیا ستم کے بارش میں غموں کے آنگن میں صنم دیکھوں یہ قدرت کس آسماں کے تلے رکھواتی ہے دنیا کھبی اُسے تو کھبی مجھے شکایت رہتی ہے اُسے دیکھوں کس کس طرح سے ہمیں آزمارتی ہے دنیا بیتاب ؔ بشیر چلے یاروں یا ر کا مُکھ کے دیکھتے ہیں آؤں اک دوجے سے اٹھ کے دیکھتےہیں کعبہ میں سنگ اسود کیوں رکھی اس خلیل نے آؤ ں ہم بھی اک پتھر دل میں رکھ کے دیکھتے ہیں ہماری آنکھیں انھیں کیوں تکتی رہتی ہے سدا آؤں ہم بھی اک نظر ان سے بڑھ کے دیکھتے ہیں تیری باتیں تمہیں کہی مسلمان سےکافر نہ کر دے آؤں ہم بھی اک بار یار کا کلمہ پڑھ کے دیکھتے ہیں کب مرتےہیں جہاں سے دل میں بسنے والے آؤں ہم بھی صنم کے دل میں بیٹھ کےدیکھتے ہیں اس کو کیا ہرج ہے میرے ہونے میں بیتابؔ آؤں اپنی جان ان کے حوالے کر کے دیکھتے ہیں ہمیں ہے اُن سےبڑ ی توقع وابستہ اے رفیق آؤں اک باراپنا ماتھا ان کےدر پر رکھ کےدیکھتےہیں
0 Comments